نزدیک جو احساس کے جذبوں سے ہوا ہوں
وارستہ میں الفاظ کے رشتوں سے ہوا ہوں
اپنے میں مگن ہیں، سبھی کو اپنا ہی غم ہے
بے زار میں اپنوں سے، پرایوں سے ہوا ہوں
فرعون نے بھی اوڑھ لیا جامہ موسى
محتاط میں کچھ اب نئے رشتوں سے ہوا ہوں
طاقت کے توسط سے جو منوائیں خدائی
باغی میں ایسے جھوٹے خداوں سے ہوا ہوں
نعمان جو اس ملک میں پھیلاتی ہے نفرت
اب روبرو کچھ ایسے ہواؤں سے ہوا