پری صورت نظارہ ڈھونڈتے ہیں
مسافر ہیں سہارا ڈھونڈتے ہیں
چراغوں کو ضرورت کیا پڑی جو
ہواؤں کا سہارا ڈھونڈتے ہیں
ستاروں سا کوئی پلکوں پہ اپنی
وہ اشکوں میں نظارہ ڈھونڈتے ہیں
پڑی عادت ہمیں کیا ہارنے کی
جہاں دیکھو خسارہ ڈھونڈتے ہیں
یہ وصل شب خلش سے کم نہیں ہے
گزر …
ہم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرحصرف ایک بار ملاقات کا موقع دے دے
میری منزل ہے کہاں میرا ٹھکانا ہے کہاںصبح تک تجھ سے بچھڑ کر مجھے جانا ہے کہاںسوچنے کے لیے اک رات کا موقع دے دے
اپنی آنکھوں میں چھپا رکھے ہیں جگنو میں نےاپنی پلکوں پہ سجا رکھے ہیں آنس…
کُھلی جو آنکھ تو وہ تھا نہ وہ زمانہ تھادہکتی آگ تھی تنہائی تھی، فسانہ تھا
غموں نے بانٹ لیا تھا مجھے یوں آپس میںکہ جیسے میں کوئی لُوٹا ہُوا خزانہ تھا
یہ کیا کہ چند ہی قدموں پہ تھک کے بیٹھ گئےتُمھیں تو ساتھ مِرا دُور تک نِبھانا تھا
مجھے، جو میرے لہو…
ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گےبے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے
کس قدر ہو گا یہاں مہر و وفا کا ماتمہم تری یاد سے جس روز اتر جائیں گے
جوہری بند کیے جاتے ہیں بازارِ سخنہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے
نعمتِ زیست کا یہ قرض چکے گا کیسےلاکھ گھبرا ک…
ہمیشہ زخمِ دِل پر ، زہر ہی چھڑکا خیالوں نےکبھی اِن ہمدموں کی جیب سے مرہم نہیں نِکلا
ہمارا بھی کوئی ہمدرد ہے، اِس وقت دُنیا میںپُکارا ہر طرف، مُنہ سے کسی کی ہم نہیں نِکلا
مسافروں کو تھکن گام گام ہوتی ہےکرو قیام کہ ہمت تمام ہوتی ہے
ہماری سمت بتا اے مِرے ستارہ شناس کہ ایک دن میں کئی بار شام ہوتی
پلک جھپکنا گنہ گار کر رہا ہے مجھےوہ اس وثوق سے محوِ کلام ہوتی
کچھ اور دم میں مٹا دے گی خال و خد میرےہوائے دشت کہاں خوش خرام …
Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla
Social Plugin