تیرے ملنے کا اک لمحہ
بس اک لمحہ سہی لیکن
بکھر جائے تو موسم ہے
وفا کا بےکراں موسم
ازل سے مہرباں موسم
یہ موسم آنکھ میں اترے
تو رنگوں سے دہکتی روشنی
کا
عکس کہلائے
یہ موسم دل میں ٹھہرے تو
سنہری سوچتی صدیوں کا
گہرا نقش بن جائے
تیرے ملنے کا اک لمحہ
مقدر کی لکیروں می…
میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناںجیسے ماہتاب کو انت سمندر چاہےجیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اترےجیسے خوشبو کو ہوا رنگ سے ہٹ کر چاہےجیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہےجیسے غنچے کھلے موسم سے حنا مانگتے ہیںجیسے خوابوں میں خیالوں کی کماں ٹوٹتی ہےجی…
Continue Readingشفق کی جھیل میں جب سنگِ آفتاب گرے
ہمارے گھر پہ سیہ رات کا عذاب گرے
کہیں تو گردشِ ایام تھک کے سانس بھی لے
کبھی تو خیمہء افلاک کی طناب گرے
کواڑ بند رکھو برق ڈھونڈتی ہے تمہیں
کسے خبر کہ کہاں خانماں خراب گرے؟
سرشکِ درد کھلا اس کے پیرہن پہ بہت
زمیں کی گود میں …
کبھی یاد آؤ تو اس طرح
کہ لہو کی ساری تمازتیں
تمہیں دھوپ دھوپ سمیٹ لیں
تمہیں رنگ رنگ نکھار دیں
تمہیں حرف حرف میں سوچ لیں
تمہیں دیکھنے کا جو شوق ھو
تو دیار ہجر کی تیرگی
کوہِ مژہ کی نوک سے نوچ لیں
کبھی یاد آؤ تو اس طرح
کہ دل و نظر میں اُتر سکو
کبھی حد سے جنسِ ج…
ہر ایک زخم کا چہرہ گلاب جیسا ہے مگر یہ جاگتا منظر بھی خواب جیسا ہےیہ تلخ تلخ سا لہجہ، یہ تیز تیز سی بات مزاج یار کا عالم شراب جیسا ہےمرا سخن بھی چمن در چمن شفق کی پھوار ترا بدن بھی مہکتے گلاب جیسا ہےبڑا طویل، نہایت حسیں، بہت مبہم مرا سوال تمہارے جو…
Continue Readingجلا کے تُو بھی اگر____آسرا نہ دے مجھ کو یہ خوف ھے کہ ھوا پھر بجھا نہ دے مجھ کو
میں اس خیال میں مڑ مڑ کے دیکھتا ہوں اسےبچھڑ کہ وہ کہیں پھر صدا نہ دے مجھ کو
فضائے دشت ، اگر اب میں گھر کو یاد کروں وہ خاک اُڑے کہ ھوا راستہ نہ دے مجھ کو
اسی خیال سے شب …
بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے
یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کووہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے میں تجھ کو پا کے بھی کھویا ہوا سا رہتا ہوںکبھی کبھی تو مجھے تو نے ٹھیک سمجھا ہے کچھ اس قدر بھی تو آس…
محسن نقوی
زندگی پُھول ہے، خوشبو ہے، مگر یاد رہےزندگی، گردشِ حالات بھی ہو سکتی ہے
چال چلتے ہُوئے، شطرنج کی بازی کے اُصول بُھول جاؤ گے، تو پھر مات بھی ہوسکتی ہے
ایک تو چھت کے بِنا گھر ہے ہمارا مُحسؔناُس پہ یہ خوف کہ برسات بھی ہو سکتی ہے
جسم تَڑپا ہے خاک پر تَنْہارُوح کرتی رہی سَفَر تَنْہانِیند والوں کو کیا خَبَر اِس کی؟کون جاگا ہےرات بھر تَنْہا؟
لوگ سوۓ تھے بَنْد کمروں میںچاند بھٹکا ہے دَربَدَر تَنْہاساتھ دیتا ہے کون مَنْزِل تک؟ساتھ چلتی ہے رَہگُزَر تَنْہا
شَہر کا شَہر بُجھتا جاتا …
کبھی موم بن کر پگھل گیاکبھی گرتے گرتے سنبھل گیا
وہ بن کے لمحہ گریز کامیرے پاس سے یوں نکل گیا
اُسے روکتا بھی تو کس طرحکہ وہ شخص اتنا عجیب تھا
کبھی تڑپ اٹھا میری آہ سے کبھی اشک سے نہ پگھل سکا
سر راہ ملا وہ اگر کبھیتو نظر چرا کے گزر گیا
وہ اُتر گیا میری…
اِتنی مُدّت بعد ملے ہو!کن سوچوں میں گم رہتے ہو؟
اِتنے خائف کیوں رہتے ہو؟ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو
تیز ہَوا نے مجھ سے پوچھاریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو؟
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھےرات گئے تک کیوں جاگے ہو؟
میں دریا سے بھی ڈرتا ہوںتم دریا سے بھی گہرے ہو!
کون سی بات ہے…
میرا نام تھا جو اب تک وہ میرا نشاں نہیں ھے میری زندگی جو گزری میری داستاں نہیں ھے
تیری کائناتِ کُل کا میں ھوں ایک ادنیٰ لمحہ پھر بھی میری یہ کاوش یوں بے زباں نہیں ھے
ھر سانس میں پوشیدہ تیری داستانِ کُن ھےمری دھڑکنوں میں پنہاں مری داستاں نہیں ھے
میں…
سیلاب دیکھتا ہوں تو آتا ہے یہ خیالپانی بھٹک رہا ہے تلاشِ حُسین ع میں
محسن نقوی
Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla
Social Plugin