نہ ہوا نصیب قرارِ جاںہوسِ قرار بھی اب نہیں
ترا انتظار بہت کیاترا انتظار بھی اب نہیں
تجھے کیا خبر مہ و سال نے ہمیں کیسے زخم دیئے یہاں
تری یادگار تھی اک خلش تری یادگار بھی اب نہیں
نہ گلے رہے نہ گماں رہےنہ گزارشیں ہیں نہ گفتگو
وہ نشاطِ وعدہء وصل کیا …
خلوتِ جاں کی زندگی نذرِ سفر تو ہو گئییعنی ہماری آرزو خاک بسر تو ہو گئی
ہے مرا خواب پُر عذاب، سب کے ہیں خواب مہرتابمیری سحر نہیں ہوئی سب کی سحر تو ہو گئی
جون ایلیاء..
ناروا ہے سخن شکایت کا وہ نہیں تھا مری طبیعت کا
دشت میں شہر ہو گئے آباد اب زمانہ نہیں ہے وحشت کا
وقت ہے اور کوئی کام نہیں بس مزہ لے رہا ہوں فرصت کا
میں اگر تذکرہ کروں تو کروں کِس کی زُلفوں کا،کِس کی قامت کا
مر گئے خواب سب کی آنکھوں کے ہر طرف ہے گِلہ…
دل کے حق میں ذرا نہیں ہے وقت بے گماں مقتل یقین ہے وقت ہر نفس قہر آفریں ہے وقت ایک دریائے آتشیں ہے وقت
ایلیاآنکھ اٹھا کر بھی نہیں تکتیHusn ik Dilruba Hukumat hai
Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla
Social Plugin