دنیا سے بے نیاز ہوں ، اپنی ہوا میں ہوں
جب تک میں تیرےدل کی محبّت سرا میں ہوں
اک تخت ، اور میرے برابر وہ شاہ زاد
لگتا ہے آج رات میں شہر سبا میں ہوں
خوشبو کو رقص کرتے ہوئے دیکھنے لگی
سحر بہار میں کہ طلسم صبا میں ہوں
ورنہ غبار ماہ بھی کب مجھکو چھو سکا
آہستہ…
حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے
باب اک اور محبت کا کھلا چاہتا ہے
ایک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اس کی
اور یہ دل کہ اسے حد سے سوا چاہتا ہے
اک حجاب تہہ اقرار ہے مانع ورنہ
گل کو معلوم ہے کیا دست صبا چاہتا ہے
ریت ہی ریت ہے اس دل میں مسافر میرے
اور یہ …
چہرہ میرا تھا، نگاہیں اُس کیخامشی میں بھی وہ باتیں اُس کی.میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیںشعر کہتی ہوئی آنکھیں اُس کی.شوخ لمحوں کا پتہ دینے لگیںتیز ہوئی ہُوئی سانسیں اُس کی.ایسے موسم بھی گزارے ہم نےصبحیں جب اپنی تھیں‘ شامیں اُس کی.دھیان میں اُس کے یہ عا…
Continue Reading
Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla
Social Plugin