گرانئ شب ہجراں دو چند کیا کرتے
علاج درد ترے دردمند کیا کرتے
وہیں لگی ہے جو نازک مقام تھے دل کے
یہ فرق دست عدو کے گ بد کیا کرتے
جگہ جگہ پہ تھے ناصح تو کو بکو دلبر
انہیں پسند، انہیں نا پسند کیا کرتے
ہمیں نے روک لیا پنجہ جنوں ورنہ
ہمیں اسیر یہ کوتہ کمن…
ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ، ترے جاں نثار چلے گئے
تری رہ میں کرتے تھے سر طلب ،، سرِ رہگزار چلے گئے
تری کج ادائی سے ہار کے ، شبِ انتظار چلی گئی
مرے ضبطِ حال سے رُوٹھ کر ــ مرے غم گسار چلے گئے
نہ سوالِ وصل ، نہ عرضِ غم ، نہ حکایتیں ، نہ شکایتیں
ترے ع…
چَشمِ میگوں ، ذرا اِدھر کر دے
دَستِ قدرت کو ، بے اثر کر دے
تیز ھے آج ، دردِ دِل ساقی
تلخئ مَئے کو ، تیز تر کر دے
جوشِ وحشت ھے ، تشنہ کام ابھی
چاکِ دامن کو ، تا جِگر کر دے
میری قسمت سے کھیلنے والے
مجھ کو قسمت سے ، بے خبر کر دے
لُٹ رھی ھے میری ، متاعِ نی…
تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے تلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہے
جنوں میں جتنی بھی گزری بکار گزری ہے اگرچہ دل پہ خرابی ہزار گزری ہے
ہوئی ہے حضرت ناصح سے گفتگو جس شب وہ شب ضرور سر کوئے یار گزری ہے
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا وہ بات ان کو بہت ن…
آئے کچھ ابر، کچھ شراب آئےاس کے بعد آئے جو عذاب آئے
بامِ مینا سے ماہتاب اُترےدستِ ساقی میں، آفتاب آئے
ہر رگِ خوں میں پھر چراغاں ہوسامنے پھر وہ بے نقاب آئے
عمر کے ہر ورق پہ دل کو نظرتیری مہر و وفا کے باب آئے
کر رہا تھا غم جہاں کا حسابآج تم یاد بے حساب آئ…
حسرتِ دید میں گزراں ہیں زمانے کب سےدشتِ اُمید میں گرداں ہیں دوانے کب سے
دیر سے آنکھ پہ اُترا نہیں اشکوں کا عذاباپنے ذمّے ہے ترا قرض نہ جانے کب سے
کس طرح پاک ہو بے آرزو لمحوں کا حسابدرد آیا نہیں دربار سجانے کب سے
سر کرو ساز کہ چھیڑیں کوئی دل سوز غزل&qu…
گزر رہے ہیں شب و روز تم نہیں آتیںریاضِ زیست ہے آزردۂ بہار ابھیمرے خیال کی دنیا ہے سوگوار ابھیجو حسرتیں ترے غم کی کفیل ہیں پیاریابھی تلک مری تنہائیوں میں بستی ہیںطویل راتیں ابھی تک طویل ہیں پیاریاداس آنکھیں تری دید کو ترستی ہیں
بہارِ حسن ، پہ پابندیِ …
ہم سادہ ہی ایسے تھے کی یوں ہی پذیرائیجس بار خزاں آئی سمجھے کہ بہار آئی
امید تلطف میں رنجیدہ رہے دونوںتو اور تری محفل میں اور مری تنہائی
یک جان نہ ہو سکیے انجان نہ بن سکیےیوں ٹوٹ گئی دل میں شمشیر شناسائی
اس تن کی طرف دیکھو جو قتل گہ دل ہےکیا رکھا ہے مق…
Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla
Social Plugin