نکتہ چیں ہے غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنےکیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
مَیں بُلاتا تو ہوں اُس کو، مگر اے جذبۂ دل اُس پہ بن جائے کُچھ ایسی کہ بِن آئے نہ بنے
کھیل سمجھا ہے کہیں چھوڑ نہ دے، بُھول نہ جائے کاش! یُوں بھی ہو کہ بِن میرے ستائے نہ بنے
غیر پھرت…
غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوں بوسے کو پُوچھتا ہوں مَیں، منہ سےمجھے بتا کہ یُوں
پُرسشِ طرزِ دلبری کیجئے کیا؟ کہ بن کہے اُس کے ہر اک اشارے سے نکلے ہے یہ ادا کہ یُوں
رات کے وقت مَے پیے ساتھ رقیب کو لیے آئے وہ یاں خدا کرے، پر نہ خدا کرے کہ یُوں
’…
کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہکی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے
مرزا غالب
Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla
Social Plugin