اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو
غم جدائی میں یوں کیا نہ کرو
خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے
ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو
کچھ نہ ہوگا گلہ بھی کرنے سے
ظالموں سے گلہ کیا نہ کرو
ان سے نکلیں حکایتیں شاید
حرف لکھ کر مٹا دیا نہ کرو
اپنے رتبے کا کچھ لحاظ منیرؔ
یار سب …
آگئی یاد، شام ڈھلتے ہی
بُجھ گیا دِل چراغ جلتے ہی
کُھل گئے شہرِِغم کے دروازے
اِک ذرا سی ہَوا کے چلتے ہی
کون تھا تُو، کہ پھر نہ دیکھا
تُجھے
مِٹ گیا خواب آنکھ ملتے ہی
خوف آتا ہے اپنے ہی گھر سے
ماہِ شب تاب کے نِکلتے ہی
تُو بھی جیسے بدل سا جاتا
ہے
عکسِ دِیوار کے …
جس نے مرے دل کو درد دیااس شکل کو میں نے بھلایا نہیں.اک رات کسی برکھا رت کیکبھی دل سے ہمارے مٹ نہ سکی.بادل میں جو چاہ کا پھول کھلاوہ دھوپ میں بھی کملایا نہیں.جس نے مرے دل کو درد دیااس شکل کو میں نے بھلایا نہیں.کجرے سے سجی پیاسی آنکھیںہر دوار سے درشن…
Continue Readingاشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستواس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو
یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یادتنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو
لائی ہے اب اڑا کے گۓ موسموں کی باسبرکھا کی رت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو
دل کو ہجوم نکہت مہ سے لہو کیےراتوں …
Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla
Social Plugin