اَب تک نہ کُھل سکا کہ ، میرے رُوبَرُو ھے کون
کِس سے مَکالَمَہ ھے ، پسِ گُفتگُو ھے کون
سایہ اگر ھے وہ ، تو ھے اُس کا بَدن کہاں
مرکز اگر ھُوں میں ، تو میرے چار سُو ھے کون
ہر شے کی ماھیَّت پہ ، جو کرتا ھے تُو سوال
تُجھ سے اگر یہ پوچھ لے کوئی ، کہ تُو ھے …
دنیا کا کچھ برا بھی تماشا نہیں رہا
دل چاہتا تھا جس طرح ویسا نہیں رہا
تم سے ملے بھی ہم تو جدائی کے موڑ پر
کشتی ہوئی نصیب تو دریا نہیں رہا
کہتے تھے ایک پل نہ جیئیں گے ترے بغیر
ہم دونوں رہ گئے ہیں وہ وعدہ نہیں رہا
کاٹے ہیں اس طرح سے ترے بغیر روز و شب
میں سان…
ہم تھے، ہمارے ساتھ کوئی تیسرا نہ تھا
ایسا حسین دن کہیں دیکھا سُنا نہ تھا
آنکھوں میں اُس کی تَیر رہے تھے حیا کے رنگ
پلکیں اُٹھا کے میری طرف دیکھتا نہ تھا
کُچھ ایسے اُس کی جِھیل سی آنکھیں تھیں ہر طرف
ہم کو سوائے ڈوبنے کے راستہ نہ تھا
ہاتھوں میں دیر تک کوئی …
پاؤں سے خواب باندھ کے شام وصال کے
اک دشت انتظار کو جادہ کیے ہوئے!
آنکھوں میں لے کے جلتے ہوئے موسموں کی راکھ
گرد سفر کو تن کا لبادہ کیے ہوئے
دیکھو تو کون لوگ ہیں؟ آئے کہاں سے ہیں!
اور اب ہیں کس سفر کا ارادہ کیے ہوئے؟
اس سادہ رُوکے بزم میں آتے ہی بجھ گئے
جت…
''آپ کی یاد آتی رہی رات بھر''چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر
گاہ جلتی ہوئی گاہ بجھتی ہوئیشمع غم جھلملاتی رہی رات بھر
کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہنکوئی تصویر گاتی رہی رات بھر
پھر صبا سایۂ شاخ گل کے تلے کوئی قصہ سناتی رہی رات بھر
جو نہ آیا اسے ک…
کہاں آکے رکنے تھے راستے ، کہاں موڑ تھا ، اسے بھول جا وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ ، جو نہیں ملا اسے بھول جا وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں دلِ بے خبر مری بات سن اسے بھول جا ، اسے بھول جا میں تو گم تھا تیرے ہی دھیان میں ، ترِی آس ، تیرے گمان میں ص…
Continue Reading
Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla
Social Plugin