Showing posts from 2023Show all
 سنا ہے کھل گئےتھے ، ان کے گیسو سیرگلشن میں
فرصتِ گفتگو میں بھی حسرتِ گفتگو رہی
 عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا
 ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے
 حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے
تیرے ملنے کا اک لمحہ
ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی
 اک و صل جس میں قرب کا کوئی گزر نہ ہو
گرانئ شب ہجراں دو چند کیا کرتے
ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ، ترے جاں نثار چلے گئے
 اَب تک نہ کُھل سکا کہ ، میرے رُوبَرُو ھے کون
اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو
ﻣﺤﺒّﺖ ﻣﯿﮟ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ ﺍﮔﺮ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ
صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
ھر ملاقات میں اک تشنگی سی رہتی ہے
وہ دل ہی کیا جو تیرے ملنے کی دعا نہ کرے
 میرے محبوب تجھے میری محبت کی قسم
 چَشمِ میگوں ، ذرا اِدھر کر دے
 کیا دن مجھے عشق نے دکھائے
 ہم جو ہر بار تیری بات میں آجاتے ہیں
 ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے
 سحر نے اندھی گلی کی طرف نہیں دیکھا
Load More That is All