سنا ہے کھل گئےتھے ، ان کے گیسو سیرگلشن میں
صبا تیرا برا ہو ، تو نے مجھ کو بے خبر رکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ تُم آۓ شبِ وعدہ، پریشاں رات بھر رکھّا
دِیا اُمّید کا میں نے جلا کر تا سحر رکھّا
وہی دِل چھوڑ کر م…
فرصتِ گفتگو میں بھی حسرتِ گفتگو رہی
اذنِ سُخن نہ مل سکا دل میں ہی آرزو رہی
رعبِ جمالِ یار نے ہوش و حواس اُڑا دیے
اور یہ فضائے کیفِ جاں تا عمر چار سُو رہی
پاکیءِ دید شرط تھی حُسن کی بارگاہ میں
شیشہ ءِ دل بھی صاف تھا آنکھ بھی با وضو رہی
کتنے ہی خوش اداؤں …
عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا
کبھی جان صدقے ہوتی، کبھی دل نثار ہوتا
کوئی فتنہ تا قیامت نہ پھر آشکار ہوتا
ترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا
جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا
تمہیں منصفی سے کہہ دو، تمہیں اعتبار ہوتا
غمِ عشق میں مزہ تھا جو اسے …
ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے
مری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے
کہیں ہے عید کی شادی کہیں ماتم ہے مقتل میں
کوئی قاتل سے ملتا ہے کوئی بسمل سے ملتا ہے
پس پردہ بھی لیلی ہاتھ رک لیتی ہے آنکھوں پر
غبارِ ناتوانِ قیس جب محمل سے ملتا ہے
بھرے ہیں …
حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے
باب اک اور محبت کا کھلا چاہتا ہے
ایک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اس کی
اور یہ دل کہ اسے حد سے سوا چاہتا ہے
اک حجاب تہہ اقرار ہے مانع ورنہ
گل کو معلوم ہے کیا دست صبا چاہتا ہے
ریت ہی ریت ہے اس دل میں مسافر میرے
اور یہ …
تیرے ملنے کا اک لمحہ
بس اک لمحہ سہی لیکن
بکھر جائے تو موسم ہے
وفا کا بےکراں موسم
ازل سے مہرباں موسم
یہ موسم آنکھ میں اترے
تو رنگوں سے دہکتی روشنی
کا
عکس کہلائے
یہ موسم دل میں ٹھہرے تو
سنہری سوچتی صدیوں کا
گہرا نقش بن جائے
تیرے ملنے کا اک لمحہ
مقدر کی لکیروں می…
ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی
جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں
رہی
ضعف قویٰ نے آمد پیری کی دی نوید
وہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی
سر میں وہ انتظار کا سودا نہیں رہا
دل پر وہ دھڑکنوں کی حکومت نہیں
رہی
کمزوریٔ نگاہ نے سنجیدہ کر دیا
جلووں سے چھیڑ چھاڑ…
اک و صل جس میں قرب کا کوئی گزر نہ ہو
گردِ گلِ ملال کسی شعر پر نہ ہو
یہ کیا کہ دل کے خون سے بھی لفظ تر نہ ہو
تُو آئے باغ میں تو تیرے احترام میں
واجب ہے کوئی پھول کسی شاخ پر نہ ہو
یہ کیا کہ سانس سانس اذیت بنی رہے
یہ کیا کہ ایک عمر ہو، وہ بھی بسر نہ ہو
یہ کی…
گرانئ شب ہجراں دو چند کیا کرتے
علاج درد ترے دردمند کیا کرتے
وہیں لگی ہے جو نازک مقام تھے دل کے
یہ فرق دست عدو کے گ بد کیا کرتے
جگہ جگہ پہ تھے ناصح تو کو بکو دلبر
انہیں پسند، انہیں نا پسند کیا کرتے
ہمیں نے روک لیا پنجہ جنوں ورنہ
ہمیں اسیر یہ کوتہ کمن…
ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ، ترے جاں نثار چلے گئے
تری رہ میں کرتے تھے سر طلب ،، سرِ رہگزار چلے گئے
تری کج ادائی سے ہار کے ، شبِ انتظار چلی گئی
مرے ضبطِ حال سے رُوٹھ کر ــ مرے غم گسار چلے گئے
نہ سوالِ وصل ، نہ عرضِ غم ، نہ حکایتیں ، نہ شکایتیں
ترے ع…
اَب تک نہ کُھل سکا کہ ، میرے رُوبَرُو ھے کون
کِس سے مَکالَمَہ ھے ، پسِ گُفتگُو ھے کون
سایہ اگر ھے وہ ، تو ھے اُس کا بَدن کہاں
مرکز اگر ھُوں میں ، تو میرے چار سُو ھے کون
ہر شے کی ماھیَّت پہ ، جو کرتا ھے تُو سوال
تُجھ سے اگر یہ پوچھ لے کوئی ، کہ تُو ھے …
اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو
غم جدائی میں یوں کیا نہ کرو
خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے
ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو
کچھ نہ ہوگا گلہ بھی کرنے سے
ظالموں سے گلہ کیا نہ کرو
ان سے نکلیں حکایتیں شاید
حرف لکھ کر مٹا دیا نہ کرو
اپنے رتبے کا کچھ لحاظ منیرؔ
یار سب …
ﻣﺤﺒّﺖ ﻣﯿﮟ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ ﺍﮔﺮ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ
ﮐِﺴﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐِﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮐِﺲ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﭨﮭﮑﺮﺍﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺗﮭﮯ ﺷﺎﯾﺪ
ﺟﻮ ﺍِﮎ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﮧ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ
ﺳﺒﮭﯽ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﭘﮧ ﺗﮭﮯ ﺷﻌﻠﮧ ﻓﺸﺎﮞ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺝ
ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮔﯿﺴﻮﺅﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ
ﮐﺴﯽ ﻧ…
صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں
بکھرا پڑا ہے تیرے ہی گھر میں ترا وجود
بے کار محفلوں میں تجھے ڈھونڈتا ہوں میں
میں خودکشی کے جرم کا کرتا ہوں اعتراف
اپنے بدن کی قبر میں کب سے گڑا ہوں میں
کس کس کا نام لاؤں زب…
تیرے خیال کی اک روشنی سی رہتی ہے
ھر ملاقات میں اک تشنگی سی رہتی ہے
گئے دنوں کی ہی افسردگی کے عالم میں
یہ پیار رہے نہ رہے دوستی سی رہتی ہے
محبتوں کی بھی اک داستان حسرت ہے
خیالِ یار کی وہ جلوہ گری سی رہتی ہے
حسن ناداں ہی ہر ایک دل کی چاہت ہے
مریض عشق…
وہ دل ہی کیا جو تیرے ملنے کی دعا نہ کرے
میں تجھ کو بھول کر زندہ رہوں خدا نہ کرے
رہے گا ساتھ تیرا، پیار زندگی بن کر
یہ اور بات ہے زندگی میری وفا نہ کرے
یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے
اگر وفا پر بھروسہ رہے نہ دنیا کو
تو…
میرے محبوب تجھے میری محبت کی قسم
پھر مجھے نرگسی آنکھوں کا سہارہ دے دے
میرا کھویا ہوا رنگین نظارہ دے دے
میرے محبوب تجھے میری محبت کی قسم
اے میرے خواب کی تعبیر میری جانِ غزل
زندگی میری تجھے یاد کیے جاتی ہے
رات دن مجھ کو ستاتا ہے تصور تیرا
دل کی دھڑکن تجھے آ…
چَشمِ میگوں ، ذرا اِدھر کر دے
دَستِ قدرت کو ، بے اثر کر دے
تیز ھے آج ، دردِ دِل ساقی
تلخئ مَئے کو ، تیز تر کر دے
جوشِ وحشت ھے ، تشنہ کام ابھی
چاکِ دامن کو ، تا جِگر کر دے
میری قسمت سے کھیلنے والے
مجھ کو قسمت سے ، بے خبر کر دے
لُٹ رھی ھے میری ، متاعِ نی…
کیا دن مجھے عشق نے دکھائے
اِک بار جو آئے پھر نہ آئے
اُس پیکرِ ناز کا فسانہ
دل ہوش میں آۓ تو سُنائے
وہ روحِ خیال و جانِ مضموں
دل اس کو کہاں سے ڈھونڈھ لائے
آنکھیں تھیں کہ دو چھلکتے ساغر
عارض کہ شراب تھرتھرائے
مہکی ہوئ سانس نرم گفتار
ہر ایک روش پہ گل کھلائے
راہ…
ہم جو ہر بار تیری بات میں آجاتے ہیں
گھوم پھر کر اسی اوقات میں آجاتے ہیں
جب اسے باقی نہیں رہتی ضرورت میری
درجنوں عیب میری ذات میں آجاتے ہیں
جا پہنچتے ہیں جہاں رزق بلاتا ہے ہمیں
گھر سے چلتے ہیں مضافات میں آجاتے ہیں
ہجر کے دن تو عموما بھی نہیں ہیں آساں
…
ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے
حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دل گیر ہیں غنچے
خوشبو کی زبانی تیرا پیغام ہی آئے
لمحاتِ مسرت ہیں تصوّر سے گریزاں
یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
تاروں سے سجالیں گے رہ شہرِ تمنّا
مقدور نہیں …
سحر نے اندھی گلی کی طرف نہیں دیکھا
جسے طلب تھی اسی کی طرف نہیں دیکھا
قلق تھا سب کو سمندر کی بے قراری کا
کسی نے مڑ کے ندی کی طرف نہیں دیکھا
کچوکے دیتی رہیں غربتیں مجھے لیکن
مری انا نے کسی کی طرف نہیں دیکھا
سفر کے بیچ یہ کیسا بدل گیا موسم
کہ پھر کسی نے کسی …
Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla
Social Plugin