Home chahat-poetry صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں بکھرا پڑا ہے تیرے ہی گھر میں ترا وجود بے کار محفلوں میں تجھے ڈھونڈتا ہوں میں میں خودکشی کے جرم کا کرتا ہوں اعتراف اپنے بدن کی قبر میں کب سے گڑا ہوں میں کس کس کا نام لاؤں زباں پر کہ تیرے ساتھ ہر روز ایک شخص نیا دیکھتا ہوں میں کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں پہنچا جو تیرے در پہ تو محسوس یہ ہوا لمبی سی ایک قطار میں جیسے کھڑا ہوں میں لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں جاگا ہوا ضمیر وہ آئینہ ہے قتیلؔ سونے سے پہلے روز جسے دیکھتا ہوں میں قتیل شفائیsemore