Home husan-ishq نت نئے نقش بناتے ہو ، مٹا دیتے ہو
نت نئے نقش بناتے ہو ، مٹا دیتے ہو
husan-ishq
.
April 02, 2026
نت نئے نقش بناتے ہو ، مٹا دیتے ہو جانے کس جرم تمنا کی سزا دیتے ہو کبھی کنکر کو بنا دیتے ہو ہیرے کی کنی کبھی ہیروں کو بھی مٹی میں ملا دیتے ہو زندگی کتنے ہی مردوں کو عطا کی جس نے وہ مسیحا بھی صلیبوں پہ سجا دیتے ہو خواہش دید جو کر بیٹھے سر طور کوئی طور ہی ، بن کے تجلی سے جلا دیتے ہو نار نمرود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلیل خود ہی پھر نار کو گلزار بنا دیتے ہو جذب و مستی کی جو منزل پہ پہنچتا ہے کوئی بیٹھ کر دل میں انا الحق کی صدا دیتے ہو خود ہی لگواتے ہو پھر کفر کے فتوے اس پر خود ہی منصور کو سولی پہ چڑھا دیتے ہو اپنی ہستی بھی وہ اک روز گنوا بیٹھتا ہے اپنے درشن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو کوئی رانجھا جو کبھی کھوج میں نکلے تیری تم اسے جھنگ کے بیلے میں اڑا دیتے ہو جستجو لے کے تمہاری جو چلے قیس کوئی اس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنا دیتے ہو جوت سسی کے اگر من میں تمہاری جاگے تم اسے تپتے ہوئے تھر میں جلا دیتے ہو سوہنی گر تم کو “مہینوال” تصور کر لے اس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہو ناز خیالوی