یہ زرد پتے یہ سرد موسم
کہر میں لپٹی اداس شامیں
ہمارے کب اختیار میں ہے
تمہارے ہاتھوں کو اب جو تھامیں
چلو تمہیں یاد کرکے رو لیں
ہم اپنا دامن ذرا بھگو لیں
تمہاری خواہش میں جی رہے ہیں
سو زہر تنہائی پی رہے ہیں
کہر میں لپٹی اداس شامیں
ہمارے کب اختیار میں ہے
تمہارے ہاتھوں کو اب جو تھامیں
چلو تمہیں یاد کرکے رو لیں
ہم اپنا دامن ذرا بھگو لیں
تمہاری خواہش میں جی رہے ہیں
سو زہر تنہائی پی رہے ہیں
Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla