انجان کو لپٹ گئے تم
مصیبت کدھر جائے
مفاد ہے کی بات سے
کوئی مکر جائے
دل تو گیا کام سے
شکواے جا بجا آئے
یاراں سمجھ کے بات کر
رضا سدھر جائے
عیب ہیں کتنے مجھ میں
یعنی مکر جائے
سدھر بھی جائے گر رضا
یعنی مر جائے
محمد رضا
مصیبت کدھر جائے
مفاد ہے کی بات سے
کوئی مکر جائے
دل تو گیا کام سے
شکواے جا بجا آئے
یاراں سمجھ کے بات کر
رضا سدھر جائے
عیب ہیں کتنے مجھ میں
یعنی مکر جائے
سدھر بھی جائے گر رضا
یعنی مر جائے
محمد رضا
Duis autem vel eum iriure dolor in hendrerit in vulputate velit esse molestie consequat, vel illum dolore eu feugiat nulla